Blog Listing

پی ٹی آئ ڈیجیٹل پالیسی: ڈیجیٹل آزادی اور سیکورٹی کا ذکر کرنے میں ناکامی

پاکستان میں جمہوریت کے تسلسل میں ایک اہم قدم اس سال بلکہ اس مہینے ہونے والے عام انتخابات ہیں۔ سبھی سیاسی جماعتیں اپنے منشور، پالیسی، وعدے اور ارادے ووٹرز کے سامنے رکھ رہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان تحریک انصاف  نےبھی اپنے منشور میں ڈیجیٹل پالیسی کو بھی جگہ دی ہے۔ اس پالیسی کو باقاعدہ ایک تقریب میں میڈیا، آئی ٹی ماہرین اور اس صنعت سے وابستہ اداروں کے سامنے پیش کیا گیا۔

تحریک انصاف کی جانب سے جو تعارف پیش کیا گیا اس میں یہ باور کروایا گیا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی  وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دنیا بتدریج اس کمپیوٹر اور روبوٹ پر مبنی اقتصادی منڈی میں ڈھلتی جا رہی ہے۔ روایتی تعلیم، نوکریاں اور روزگار کے ساتھ ساتھ تجارت اور ابلاغ سب کچھ مشین مے ذریعے ممکن ہو رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں اس سے وابستہ افرادی قوت نا صرف کم ہے بلکہ ان کا عمومی معیار بھی بین الاقوامی ڈیمانڈ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جبکہ ہمارے خطے میں بھارت کی معیشت میں آئی ٹی صنعت کا بڑا ہاتھ ہے۔ یہاں تک کہ فلپائن جیسا چھوٹا ملک بھی اس صنعت کے ذریعے کامیابی حاصل کر رہا ہے۔ ایسے میں کسی سابقہ دور حکومت نے اس جانب توجہ نہیں دی، نا ہی کوئی مربوط لائحہ عمل ترتیب دیا گیا۔ اسلئے پاکستان تحریک انصاف نے یہ پالیسی بنائی ہے۔

پالیسی کا لب لباب تین جملوں میں بیان کیا جاسکتا ہے۔

1: آئی ٹی کی صنعت میں مواقع پیدا کرتے ہوئے، نوجوانوں کے لئے روزگار فراہم کرنا۔  آئی ٹی کی جدید تعلیم کی فراہمی ہر سطح تک لیجانا، ای- اجوکیشن کے خیال کو تقویت دینا

2: ملکی برآمدات میں ڈیجیٹل تیکنالوجی کا استعمال کو فروغ دینا۔ آئی ٹی کی مصنوعات یا پراجیکٹس کی بیرون ملک منڈی کی تلاش، فری لانس، چھوٹی کمپنیوں کی معاونت، بڑی کمپنیوں کے لیے موافق حالات کی فراہمی

3: ای- گورنس، یا ڈیجیٹلازیڈ حکومت کا قیام۔ اور کے ذریعے بد عنوانی کا خاتمہ، شفافیت اور عوام کے معیار زندگی کی بہتری

ان تمام نکات پر کوئی اعتراض بظاہر نظر نہیں آتا لیکن جہاں تک تحریک پاکستان کے اس دعویٰ کی کہ ان کی پارٹی نے پہلی بار ڈیجیٹل پالیسی دی ہے تو اس کے بارے میں ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن کے قانونی ماہرین کی رائے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے پاکستان  مسلم لیگ ن بھی اس حوالے سے کام کر چکی ہیں۔ ان کی پالیسی مئی 2018 میں سامنے آئی تھی۔  طلبا میں لیپ ٹاپ کی تقسیم وغیرہ بھی اسی سمت قدم تھا۔ بلکہ 2013 کی مسلم لیگ ن کے قومی ایجنڈا برائے تبدیلی میں بھی ڈیجیٹل طریقہ حکومت کا عندیہ دیا گیا تھا۔

http://www.moitt.gov.pk/userfiles1/file/DIGITAL%20PAKISTAN%20POLICY.pdf

علاوہ ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے 2018 الیکشن کے منشور میں بھی  ڈیجیٹل پالیسی شامل کی گئی ہے۔

تحریک انصاف کی پالیسی  کے علمی نفاذ کے لئے بہت سارے زمینی حقائق کو مد نظر رکھنا ضروری ہوگا، جس سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس میں سر فہرست پاکستان میں خواندگی کی شرح، جو بہت کم ہے، پھر فرسودہ نظام تعلیم  ، جسے بدلنے کے لئے بہت وقت ، وسائل اور کوشش درکار ہوگی۔ افسر شاہی کا سرخ فیتہ، اور ای- کامرس کے لئے تمام شراکت داروں کی آمادگی وغیرہ۔

پالیسی کی پریزنٹیشن میں کسی بھی جگہ ڈیجیٹل سیکیورٹی اور اس کو لاحق خطرات کا تزکرہ نہیں کیا گیا۔ تاہم بعد ازاں سوال جواب میں اسد عمر نے کہا کے وہ ایک  ڈیجیٹل سیکورٹی کونسل بنائیں گے جو ایک مرکزی ادارہ ہوگا۔

اس سیشن میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ پالیسی کا پہلا ڈرافٹ ہے، اور متعلقہ اداروں، افراد اور تحقیقی تنظیموں کے علاوہ عام شہریوں کو بھی دعوت دی گئی ہے کہ اس پر فیڈ بیک دیں، اپنی سفارشات پیش کریں۔

:آن لائن اس پالیسی کے لئے لنک درج ذیل ہے

http://insaf.pk/public/insafpk/sites/default/files/PTI%20Digital%20Policy.pdf


Author: Bushra Iqbal



Leave a Reply

We use cookies. By browsing our site you agree to our use of cookies.Accept