Blog Listing

کیا فیک نیوز صرف پاکستان کا مسئلہ ہے ؟

تنزیلہ مظہر
سوشل میڈیا پر خبر ایک طوفان کی طرح پھیلتی ہے۔ ایک  سیکنڈ میں سینکڑوں خبریں ہزاروں ذرائع سے بیک وقت عوام تک پہنچتی ہیں۔ جیسے معلومات کا ایک سمندر ہے جو بہے جا رہا ہے۔  اس بہاؤ میں سچ کے ساتھ ساتھ جھوٹ بھی آرام سے بہا دیا جاتا ہے ۔اور ایک جھوٹ کی حقیقت کھلنے تک کئی  اور جھوٹ عام لوگوں کے ذہنوں میں جگہ بنا چکے ہوتے ہیں ۔ باقی دنیا کی طرح پاکستان بھی فیک نیوز کے کلچر سے محفوظ نہیں ہے ۔ کبھی کوئی جعلی لیٹر ہیڈ والے فیک نوٹس وائرل ہو جاتے ہیں کبھی فیک تصاویر سارے سوشل میڈیا پر پھیلی ہوتی ہیں ۔ اور کبھی اصل خبر کو ایسے پیش کیا جاتا ہے کہ اس کا سارا معانی اور متن بدل جاتا ہے ۔
خبر  اور خبر کے ذرائع  سب وقت کی تیز رفتاری نے بدل دیا ہے۔ اب ہر وقت ہی پرائم ٹائم ہے اور ہر خبر ہی بریکنگ نیوز ہے ۔ سوشل میڈیا نے روائیتی میڈیا کا منظر نامہ مکمل طور پر بدل دیا ہے ۔ ذرائع ابلاغ کی ترقی سے جہاں معلومات کی ترسیل آسان اور تیز ہوئی ہے ۔ وہیں دنیا کو نئے اور منفرد مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے ۔ ساری دنیا فیک نیوز کے بڑھتے ٹرینڈ سے نالاں ہے۔ اور اس کے حل کے لئے کوششیں کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا کی بڑی کمپنیاں اپنی سروسز میں ایسی تبدیلیاں لانے کی کوشش کر رہی ہیں جس سے فیک نیوز کے کلچر کو روکا جا سکے، مثال کے طور پر واٹس ایپ پر پانچ افراد کو میسج فارورڈ کرنے کی حد مقرر کی گئی۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ فیک نیوز کم سے کم پھیلے۔ اگرچہ اس پابندی سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو سکا۔اسی طرح گیا فیس بک بھی فیک نیوز کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لئے اقدامات کر رہا ہے۔ پاکستان میں اس وقت میڈیا ، سول سوسائٹی اور حکومتی حلقوں میں سوشل میڈیا کے بڑھتے اثرو رسوخ کے ساتھ ساتھ  فیک نیوز کے اثرات پر بحث ہو رہی ہے۔ ۔ پاکستان میں جہاں سوشل میڈیا کا بڑھتا استعمال دنیا کے ساتھ چلنے کے رحجان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے وہیں اس کو جھوٹے پروپیگنڈے کے لئے استعمال کرنے کے خطرناک ٹرینڈ پرتحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا ہے ۔ با الخصوص منظم مہم کی صورت میں کسی بھی معاملے پر حقائق کے منافی یا حقائق کو مسخ کرتے ٹرینڈز سے سارا ماحول خراب ہو چکا ہے ۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹ رکھنے والے ہر فرد کے پاس معلومات کی ترسیل کی ایسی طاقت ہے جو پہلے صرف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے پاس ہوتی تھی ۔ پاکستان میں اس وقت  سوشل میڈیا کے لاکھوں متحرک صارفین ہیں جن کی جانب سے پوسٹ کئے جانے والے مواد کی جانچ پڑتال کا کوئی طریقہ نہیں۔وہ کسی بھی شخص،عہدے ، ادارے یا مسئلے پر اپنی راۓ کو خبر بنا کر پیش کر سکتا ہے ۔کسی بھی شخص کی طرف سے دئے گئے جھوٹے اور غلط اعدادو شمار کو سچ مان کر آگے شئیر کر سکتا ہے۔  فیک نیوز سے مراد صرف جھوٹی خبر نہیں بلکہ وہ خبر اور مواد جو حقائق کے برعکس تاثر دے وہ بھی فیک نیوز  کے زمرے میں ہے۔  پاکستان کے سیاسی سرکس میں سوشل میڈیا اور فیک نیوز کو مخالفین کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ۔ عدالتی کارروائی ہو یا امور سرکار ، عورت مارچ ہو یا انسانی حقوق کے معاملات ۔، سوشل میڈیا پر ہر موضوع کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے ۔ اس سارے معاملے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا اب معلومات تک رسائی کا بنیادی ذریعہ بن گیا  ہے ۔ یہاں تک کہ صحافتی ادارے بھی خبر کے لئے سوشل میڈیا پر انحصار کرنے لگے ہیں۔  معلومات کے درجنوں ذرائع میں سے اصل خبر کو کیسے تلاش کیا جاۓ یہ صرف میڈیا کے لئے ہی نہیں بلکہ عام آدمی کے لئے بھی ایک بڑا چیلنج ہے، سوشل میڈیا پر فیک نیوز جس تیزی سے پھیلتی ہے اس رفتار سے جھوٹی خبر اور جھوٹے پروپیگنڈے کا سد باب کرنا تقریبا ناممکن ہے،افواہیں جنگل کی آگ کی طرح واٹس ایپ اور ٹویٹر اور فیس بک پر پھیلتی ہیں ۔ فیک نیوز کو پہچان کر اصل بات تک پہنچنے کا مرحلہ ہر کوئی طے نہیں کرسکتا اس طرح جھوٹی خبر یں پھیلانے کا سلسلہ چلتا ہی جا رہا ہے ۔
فیک نیوز کو روکنے کا حل کیا ہے کیا صرف پابندیاں عائد کرنے سے فیک نیوز کو روکا جا سکتا ہے۔ اس سوال کا جواب نفی ہے ۔ پاکستانی معاشرہ آف لائن دنیا میں جس طرح دوسروں کے نام شہرت ذاتی زندگی کے احترام جو اہمیت نہیں دیتا یہی حال آن لائن سپیس کا ہے ۔ بد قسمتی سے پاکستان میں اخلاقیات اور مہذب گفتگو کے آداب جیسے موضوعات پر گفتگو نا ہونے کے برابر ہے ، اس سلسلے میں سب سے بنیادی چیز عوام میں دوسروں کی زندگی ، شہرت اور خاندان کے تحفظ کا احساس اجاگر کرنا ہے۔ سوشل میڈیا کے صارفین کو ان نقصانات کی سنگینی کا احساس دلانا ہے جو فیک نیوز کی صورت میں کسی فرد یا ادارے کو ہو سکتے ہیں ۔ اس کے بعد عوام کو یہ شعور دینا ہے کہ وہ فیک نیوز ۔ جھوٹ اور سچ میں کیسے تمیز کر سکتے ہیں یقیناً یہ آسان کام نہیں ہے مگر اس موضوع پر عوامی بحث کا آغاز کافی حوصلہ افزا ہے ۔


Leave a Reply

We use cookies. By browsing our site you agree to our use of cookies.Accept