Blog Listing

سوشل میڈیاکی امربیل سائبر کرائم کی آواز میں

This blog has been written by Sabahat Khan, Member of  DRF’s Network of Women Journalists for Digital Rights.

کہا جاتا ہے کہ ریاست کے چوتھے ستون میڈیا نے دنیا بھر کو ایک گلوبل ویلج بنا دیا ہے جس کی وجہ سے میڈیا کی شاخ ’’سوشل میڈیا‘‘ ریاست میں’’ امربیل‘‘ کی صورت میں 20 کروڑ عوام کے ہاتھوں میںکھیل رہی ہے جس کے فائدے تو بے شمار ہیں مگر نقصان کی بات کی جائے توسوشل میڈیا حقیقی معنوں میں امربیل کی طرح ہمارے معاشرے کو دنیا کے سامنے منفی انداز میں پیش کر رہی ہے۔ امربیل ایک قسم کی بیل ہوتی ہے جو زرد زرد سوت اور اکثر درختوں پر لپٹی رہتی ہے اس کی جڑ زمین پر نہیں ہوتی اور نہ اس میں پتے ہوتے ہیںجس درخت پر اسے ڈال دیتے ہیں وہ اسی کو جلا دیتی ہے اورخود سرسبز ہوجاتی ہے ایسا ہی سلوک سوشل میڈیا نے ہماری میڈیا اور معاشرے کے ساتھ کیا ہے جس کی واضح مثال پاکستان میں سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد کا اپ لوڈ ہونا ہے ۔ سوشل میڈیا ایسے ہاتھوں میں چل رہا ہے جو ٹیکنالوجی کے مکمل استعمال سے ناواقف ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملک کی مجموعی سیاسی اور سماجی صورت حال پر ہر طبقہ کے بارے میں جاننے بغیر غیراخلاقی مواد اپ لوڈکر دیا جاتا ہے جس پر مختلف طبقہ ہائے جات سے تعلق رکھنے والے لوگ غیر اخلاقی مواد کو پسند کرتے ہوئے تبصرے بھی کرتے نظر آتے ہیں جبکہ ملک میں حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کے قواعد و ضوابط کے ساتھ قوانین کو ’’سائبر کرائم‘‘ کے مطابق سزا ئیںاور جرمانے بھی  عائد کئے گئے ہیں اس کے باوجود سائبر کرائم میں کمی نہیں ہوئی بلکہ جدید دور میں اس تھرڈ کو محسوس کرنے کے باوجود بھی اس پر پابندی لگانا بھی ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ سائبر کرائم کے قوانین کے نافذ کے عمل میں کمی کا یہ عالم ہے کہ کوئی بھی شخص بغیر کسی ڈر اور خوف کے قومی اور سیاسی معاملات کے ساتھ ساتھ سیاسی پارٹیوں کے ساتھ نظریاتی تعلق کے بنیاد پر دوسری پارٹی کے ممبروں کے لیے ذاتی بنیادوں پر غیر اخلاقی مواد اپ لوڈ کرتے ہیں۔ بات یہاں تک ہی محدود نہیں بلکہ عام خواتین سے لے کر مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بھی سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی چیزوں کا سامنا بیشتر اوقات کرنا پڑتا ہے ۔ ملک کے قانون کے مطابق سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی پیغام ، ویڈیوز ، کسی بھی فرد کی عزت آبروکے بارے میں یا ملکی مفادات کے خلاف مواد اپ لوڈ کرنا آئینی طور پر جرم ہے ۔
سوشل میڈیا میں سب سے زیادہ سائبر کرائم کا شکار ایوان میںبیٹھے لوگ سیاستدان بھی ہوتے ہیں،خاص کر خواتین ارکان کو سب سے زیادہ سائبر کرائم کاسامنا ہوتا ہے ۔ میری سوچ یہیں رک جاتی ہے کہ جب ایوان میں بیٹھی خواتین ارکان ہی سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی رویوں کا شکار ہوتی ہیں اور وہ اس کو سیاست میں سب چلتا ہے کہ نام پر ٹال دیتی ہیں ۔ تو  خواتین کو حقوق وتحفظ فراہم کرنے حوالے سے قوانین اسمبلی میں پیش کرنے کے نعرے لگانے والے خود کو سائبر کرائم سے محفوظ نہیں رکھ سکتے تو ملک کی 20  کروڑ عوام کو کس طرح تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا کی تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ جس معاشرے میںسائبر کرائم کسی کی بھی عزت و نفس کو مجروح کرنے کا باعث بنتے ہیںوہاں  حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہیں سائبر کرائم کے بہت سے مثبت اثرات بھی معاشرے پر مرتب ہوتے ہیںجس کی ایک مثال ہمارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے بھی ہیں جو کہ سائبر کرائم کا استعمال خوب کرتے اور جانتے ہیں لیکن میرے نظریہ کے مطابق سکیورٹی اداروں کی جانب سے سائبر کرائم پر کام کرنا ملکی مفاد اور پاکستانیوں کے حق میں ہے۔ یہاں ایک بات اور واضح کرتی چلوں کہ میرے نزدیک کرائم کا مطلب سوچ کو بدلنا ہے روزمرہ زندگی میں ہونے والے وہ واقعات جن کو معاشرہ کرائم کہتا ہے وہ بھی اپنی نوعیت کے کرائم ہیں لیکن شاید کرائم کا مطلب کسی کی سوچ بدلنا بھی ہے۔ ہمیں سوشل میڈیا میں سائبر کرائم کو سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کسی کی سوچ پر کس طرح اثر انداز ہو رہے ہیں یا ہمیں اپنی سوچ بدلنے اور شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہونے والا مواد بغیر سوچے سمجھے اپ لوڈ کیا جاتا ہے جس سے کئی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے جس میں بہت سے کیسز دیہی علاقوں سے ہیں لیکن وڈیروں، وزیروں، مشیرصاحبان کی وجہ سے ایسے کیسز کو دبادیا جاتا ہے۔ آج کل ایک بات اور سوشل میڈیا پر پڑھنے کو ملی ہے کہ “یہ وطن تمہارا ہے ہم ہیں پاسبان اس کے”کافی دیر سوچنے اور چائے کی پیالیاں خالی ہونے کے بعد اس کہے گئے جملے میں مجھے میری ہی عوام کی بے بسی، قوم کی بچیوں کے آنسو اور 50روپے روزانہ پر کام کرنے والے مزدور کے بیٹے کی عزت لوٹ کر موت کے گھاٹ اتار دینا ہے اور اس سب میں قصور وار صرف ایک مجرم نظر آیا اور اس کا نام ہے سوشل میڈیا”سائبر کرائم”۔ ملک میں سوشل میڈیا پر غلط معلومات  اور خبروں کو لوڈ کرنے کا رواج عام ہوتا ہے ۔ عوام کسی بھی ڈر اور خوف کے سیاسی مذہبی اور معاشرتی معاملات کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے نہیں ڈرتے بلکہ لوگوں کی عزت کا فالود ہ نکالنے اور ملک کو بین الاقوامی سطح پر منفی انداز میں پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
مجموعی صورتحال پر نظر ڈالتے ہوئے سائبر کرائم کے چند قوانین پر نظر دوڑاہوں تو عزت و وقار کے خلاف جرائم کے حوالے سے ہمارا قانون کہتا ہے کہ کسی معلوماتی نظام کے ذریعے کسی شخص کے خلاف جھوٹی خبریں اور ویڈیو جیسے مواد ،سرعام شہرت کے لیے نقصان دہ معلومات کا اظہار ، نمائش یا منتقلی پر تین سال قید یا دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا یا دونوں ہو سکتی ہیں۔ اس کا اطلاق پیمرا کے تحت لائسنس یافتہ چینلز پر نہیں ہوگا۔دوسرا قانون کہتا ہے کہ پاک دامنی کے خلاف جرائم میں معلوماتی نظام کی مدد سے کسی شخص کے چہرے کی تصویر ،فحش تصویر یا ویڈیو پر چسپاں کرنے، کسی فرد کی شہوت انگیز تصویر یا ویڈیو کی نمائش یا اشاعت کرنے، کسی شخص کو جنسی فعل یا عریاں تصویر یا ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کرنے یا اسے جنسی فعل کے لیے قائل کرنے، ترغیب دلانے یا مائل کرنے پر پانچ سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔نابالغ کے ساتھ پہلی بار ان جرائم پر قید کی سزا کی مدت سات سال ہو گی اور دوبارہ ارتکاب پر دس سال ہوگی۔ کچھ عرصہ پہلے مجھے ایک ایسی ویڈیو سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملی جس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی بیٹی مریم نواز کے بارے میں ایک شخص ان کی تصویر کے ساتھ غیر اخلاقی حرکت کرتا ہوا دیکھا جا رہا تھا۔ ہمارے معاشرے کا افسوسناک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ ہم اپنی فرسٹ ٹریشن قوم کی مائوں، بہنوں، بیٹیوں پر نکالتے ہیں، ایسا کرنے والے یہ مت بھولیں کہ وقت ان کے گھروں کا رخ بھی کر سکتا ہے۔ ملک کے قوانین جب واضح انداز میں سائبر کرائم کے لیے سزائیں رکھتے ہیں تو ملک کا ہر دوسرا شہری اس کرائم میں کیوں ملوث ہوتا جا رہا ہے ۔سائبر کرائم کی بڑھتی شرح کا جواب میرا مطالعہ کے مطابق یہ ہے کہ ملک میں قوانین تو بنائے جاتے ہیں مگر ان کے بار ے میں عوام میں کوئی شعور اجاگر نہیں کیا جاتا۔نئی حکومت کو سائبر کرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے حوالے سے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے ہوں گے کیونکہ پاکستان سمیت دنیا بھر کو ماحولیاتی تبدیلی کے بعد دنیا بھر سائبر کرائم کا تھرڈ محسوس کرتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔


Leave a Reply

We use cookies. By browsing our site you agree to our use of cookies.Accept